ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہاتھرس سانحہ:میڈیا کا کیمرہ بند لیکن متاثرہ لڑکی کی چیخ اب بھی فضاؤں میں گونج رہی ہے

ہاتھرس سانحہ:میڈیا کا کیمرہ بند لیکن متاثرہ لڑکی کی چیخ اب بھی فضاؤں میں گونج رہی ہے

Mon, 12 Oct 2020 10:07:04    S.O. News Service

نئی دہلی،12؍اکتوبر(ایس او نیوز؍بی بی سی) ہاتھرس کی ایک بیٹی کی عصمت دری سانحہ کی تصویر ہرگزرتے لمحے کے ساتھ اب ماند پڑتی جارہی ہے،ہرگزرتے دن کے ساتھ آنکھوں میں بسا وہ خوفناک منظر اب دھندلا ہو نے لگاہے- باجرے کے کھیت، لاش کو نذر آتش کرنے کی جگہ اور خود گاؤں بھی اب خاموشی سے چیخ رہے ہیں -گودی میڈیا اور دبنگوں اور اہل ثروت کی چیخ تو سب سن لیتاہے لیکن کیا کوئی غریب اور نادارکی چیخ بھی سن سکتاہے؟

ہاتھرس سانحہ کے جرم کے شواہد مٹانے کی آخری کوشش یہ تھی کہ پولیس نے اہل خانہ کی اجازت کے بغیر مبینہ ریپ کی متاثرہ لڑکی کی لاش کو جلا دیا تھا- یہ29 اور30ستمبر کی درمیانی رات تھی، جب رات کے اندھیرے میں شعلے کھیتوں کے بیچ میں بلند ہونا شروع ہوئے-وہ دلت (ہندوؤں کی پسماندہ ذات) برادری سے تعلق رکھتی تھی-

لواحقین کا کہنا ہے کہ گاؤں کے ٹھاکروں (اعلیٰ ذات والوں) نے لڑکی کا ریپ کرنے کے بعد اسے قتل کرنے کی کوشش کی تھی- گاؤں میں دلتوں کے کل چار گھر ہیں -بچی کے ساتھ حیوان جیسا سلوک کرنے کے الزام میں ٹھاکروں کے چار نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا- یہ چند موٹی موٹی باتیں ہیں - باقی سب کی اپنی اپنی کہانیاں ہیں -متاثرہ و مقتولہ کی ماں کو یاد ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے بالوں کی چوٹی بناتی تھیں - ان کی بیٹی نے اپنے لمبے بالوں کو سنوارنے کیلئے جو کلپ لگا رکھا تھا وہ اس وقت ٹوٹ گیا جب اسے کھیتوں میں گھسیٹا گیا-وہ کچھ یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ اس کے بال بہت لمبے تھے- وہ مجھے اپنے بال باندھنے کو کہتی تھی-لیکن اس گاؤں میں صرف ایک ہی سچ نہیں ہے- یہاں ایک سچائی دوسرے کے خلاف کھڑی ہے اور چیلنج کر رہی ہے-نئی دہلی سے ملحقہ مغربی اتر پردیش کا چاندپا گاؤں ایک پْرسکون مقام ہے- اگر آپ چاندپا کے آس پاس کے علاقوں پر نظر دوڑائیں تو باجرے کی فصل 6 فٹ اونچی تک نظر آئے گی-

متاثرہ لڑکی تقریباً دو ہفتوں تک زندگی کی جنگ لڑتی رہی لیکن آخر کار وہ29 ستمبر کی صبح ابدی نیند سو گئی-یہ14ستمبر کی بات ہے جب ماں نے اپنی بیٹی کو خون سے لت پت حالت میں پایا- وہ بڑی مشکل سے سانس لے پا رہی تھی-ماں نے بیٹی کے ننگے بدن کو اپنی ساڑھی سے ڈھانپ لیا اور اسے لے کر چندپا تھانے پہنچی-

ماں کہتی ہے کہ اس وقت اس کے ذہن میں ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال نہیں گزرا کہ بیٹی مر جائے گی-ابتدائی طور پر اس کے خاندان نے جنسی تشدد یا ریپ کی شکایت نہیں کی تھی- اس کی وجہ یہ تھی تاکہ معاشرے اور برادری میں بیٹی کی بدنامی نہ ہو-بعد ازاں متاثرہ لڑکی نے موت سے قبل جو بیان دیا اس میں ملزم کے خلاف عصمت دری کا الزام بھی عائد کیا گیا تھا- لیکن اب متاثرہ لڑکی کے لواحقین کی ہر شکایت پر پوچھ گچھ کی جارہی ہے- ان کی تکلیف کو مسترد کیا جا رہا ہے-اب اس معاملے میں غیرت کے نام پر قتل کی بات بھی کہی جا رہی ہے-

کہا جارہا ہے کہ بچی کے اہل خانہ نے بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا-ایسے دعوے کرنے والوں کو ملزموں سے ہمدردی رکھنے والے رہنماؤں اور صحافیوں سے شہ مل رہی ہے- انھیں یہ دلائل رٹائے جا رہے ہیں -لیکن اگر آپ گاؤں کا صرف ایک چکر لگائیں تو آپ کو احساس ہوگا کہ وہ سب جھوٹ بول رہے ہیں -پوسٹ ٹروتھ کے اس دور میں کسی بھی رپورٹر کیلئے حقائق تلاش کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہوتا ہے- مرد اور عورت میں تمیز رکھنے والا معاشرہ ایک رپورٹر کو بھی عورت اور مردوں کے خانوں میں رکھ کر بات کرتا ہے-نتیجہ یہ ہوا کہ کہانی کا رْخ مڑ جاتا ہے- آج ریپ اور اس کے جسم پر نظر آنے والے زخموں کو چیلنج کیا جا رہا ہے-ذات پات اور برادری کے نام پر اس واقعے کے گرد سیاسی مورچہ بندی ہو رہی ہے- عصمت دری کے ملزم ٹھاکروں کو انصاف دلانے کیلئے گاؤں کے آس پاس کے دیہات میں پنچایتیں ہورہی ہیں - جو لوگ ان پنچایتوں میں حصہ لے رہے ہیں وہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس معاملے میں ٹھاکروں کو غیر ضروری طور پر ملوث کیا گیا ہے-حکومت کے کارندوں اور بااثرغنڈوں نے حالات اتنے خراب کردئے ہیں کہ وہ ہلاک شدہ لڑکی اب ٹیلی ویژن پر”لائیو“ ہو چکی ہے- بس چند دنوں کی بات ہے،سارا بیانیہ بدلا ہوا نظر آئے گا-یہ پوچھنے والا کوئی نہیں ہوگا کہ ایک لڑکی جس کے ہاتھ،پاؤں ٹوٹے ہوئے تھے،جس کی ریڑھ کی ہڈی توڑ ی گئی تھی،اس اپاہج کو جلانے میں اتنی جلدی کیوں کی گئی؟

سپریم کورٹ نے پی وی رادھا کرشنن بنام کرناٹک حکومت کے معاملے میں کہا تھا کہ مرنے سے پہلے کسی کا بیان حتمی ہے اور استثنیٰ سے بالاتر ہے-ملک کی سب سے بڑی عدالت نے اپنے فیصلے میں لاطینی محاورے کا حوالہ دیا جس کا مطلب ہے کہ”مرنے سے پہلے کوئی جھوٹ نہیں بولتا“-اس حقیقت پسندانہ تبصرہ کے بعد کیا تحقیقات کی ضرورت ہے؟گزشتہ کئی دنوں سے گاؤں میں ایک بھیڑ ہے جو مقتولہ کے گھر کے گرد جمع رہتی ہے-ماں روتے ہوئے کہتی ہیں کہ مجھے اس شور میں بہت ہی عجیب لگ رہا ہے-گزشتہ کئی دنوں سے انھیں سیاستدانوں، سماجی کارکنوں، پولیس اور صحافیوں نے گھیر رکھا ہے- ایسی صورتحال میں ان کے دکھ کو بھی بدنیتی سمجھا گیا- لیکن شاید اس ماں نے اپنی بیٹی کا غم اپنے دل میں ہمیشہ کیلئے چھپا لیاہے-


Share: